ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / آسام۔این آر سی میں 19لاکھ افراد کا اندراج نہ کیا جانا باعث تشویش: ایس ڈی پی آئی 

آسام۔این آر سی میں 19لاکھ افراد کا اندراج نہ کیا جانا باعث تشویش: ایس ڈی پی آئی 

Tue, 03 Sep 2019 12:08:59    S.O. News Service

نئی دہلی،3/ستمبر (پریس ریلیز/ایس او نیوز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے آسام۔ این آ ر سی کی حتمی فہرست میں تقریبا 19لاکھ افراد جو قومی رجسٹر میں اندراج سے رہ گئے اسے غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ این آر سی میں اندراج کرنے کا طریقہ کار درست نہ ہونے کی وجہ سے بہت سارے لوگوں کو اس فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ اگر فہرست تیار کرنے کے عمل میں خامیاں جاری رہیں تو ناانصافی بھی برقرار رہے گی۔اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے اپنے اخباری اعلامیہ میں کہا ہے کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حتمی فہرست میں اندراج کرنے سے جو شہری رہ گئے ہیں انہیں غیر ملکی ٹریبونل اوراعلی عدالتوں میں اپنی شہریت ثابت کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا اور انہیں غیر ملکی نہیں سمجھا جائے گا۔ تاہم، ان کی موجودہ حیثیت کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے کہ کیا ان کے شہری حقوق ان کے پاس ہونگے جب تک کہ ان کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوجا تا۔ عبدالمجید نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کے کارکنوں کا خدشہ ہے کہ جن لوگوں کے نام فہرست میں شامل نہیں ہیں انہیں ممکنہ طور پر جیل یا ملک بدری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور ان کے رائے دہندگی اور دیگر شہری حقوق بھی چھین لئے جاسکتے ہیں۔ عبدالمجید نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کر تے ہوئے کہا ہے کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بی جے پی بھی این آر سی کی حتمی فہرست سے ناخوش ہے کیونکہ اس فہرست میں بہت سارے ہندو بھی خارج ہوگئے ہیں۔ اس طرح سے صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا بی جے پی کا منصوبہ اس کے ناک کے نیچے ناکام ہوگیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تقدیر کا ہی کھیل ہے کہ وہ لوگ جو دراندازیوں اور غیر ملکیوں کے بارے میں بکواس کررہے تھے وہ خود کیسے غیر ملکی نکلے۔ ہجرت کرنے کی کوشش کرنے والے لوگ وہ ہیں جو محنت کرکے زندگی گزارنا چاہتے ہیں، نیز یہ مبینہ در انداز طویل عرصے تک ہندوستانی کی حیثیت سے زندہ رہے ہیں۔ ایک عملی اور انسانی ہمدردی کے ناطے انہیں شہریت دیں اور مستقبل میں لوگوں کو سرحد پار کرنے سے روکیں۔ عبدالمجید نے یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ بڑی تعداد میں ہندوستانی متعدد ممالک میں داخل ہوکر رہائش پذیر ہیں۔بہت سے لوگ اب بھی ہر سال غیر قانونی طور پر امریکی سرحد پارکررہے ہیں۔ ایس ڈی پی آئی قومی جنرل سکریٹری عبدالمجید نے اپیل کیا ہے کہ تارکین وطن کو مذہب سے بالاتر ہوکر چند معیارات کی بنیاد پر شہریت دی جائے۔ آخر کار بے گناہ اور غریبوں کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے چاہے وہ ملک کے جائز بیٹے ہی کیوں نہ ہوں۔ درین اثنا ء، شہریت ترمیمی بل جس کا مقصد صرف پڑوسی ممالک مثلا پاکستان اور بنگلہ دیش کے غیر مسلم تارکین وطن کو ہندوستانی شہری بنانے میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ سماجی کارکنوں اور اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اسے 'فرقہ وارانہ 'اور 'امتیازی سلوک 'قرار دیا ہے۔ 


Share: